صحیح بخاری: حدیث نمبر 1

کِتابُ بَدْءِ الْوَحْيِ

بَابُ كَيْفَ كَانَ بَدْءُ الْوَحْيِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

وَ قَوْلُ اللَّهِ جَلَّ ذِكْرُهُ: { إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَى نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِنْ بَعْدِهِ }

اور اللہ عزوجل کا فرمان ہے ” (اے محبوبﷺ) ہم نے بلاشبہ آپ کی طرف وحی کا نزول اسی طرح کیا ہے جس طرح نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد آنے والے تمام نبیوں کی طرف کیا تھا۔ “

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:” إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ”.

ترجمہ
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ
سارے کاموں (کے ثواب) کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی وہ نیت کرے گا، لہذا جس کی ہجرت (کی نیت) دنیا پانے کی ہوگی یا عورت سے شادی کرنے کی تو اس کو وہی چیز ملے گی جس کی (نیت سے) اس نے ہجرت کی۔

Leave a Comment

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے