طبقات رواة (راویوں کے طبقے)

علامہ ابن حجر عسقلانی نے راویوں کے درج ذیل 12 طبقے بیان کیے ہیں:

پہلا طبقہ: صحابہ کرام۔ البتہ ان کے مراتب مختلف ہیں۔
اور اس بات کی تمیز بھی لازم ہے کہ جن کی نبی علیہ السلام سے فقط رؤیت ثابت ہے وہ کم درجے میں ہیں ان سے کہ جن کی رؤیت کے ساتھ ساتھ صحبت بھی ثابت ہے۔

دوسرا طبقہ: کبار تابعین اور مخضرمین 1۔ جیسے سعید ابن مسیب رحمہ اللہ

تیسرا طبقہ: درمیانی درجے کے تابعین۔ جیسے حسن بصری، ابن سیرین رحمہما اللہ

چوتھا طبقہ: تیسرے طبقے سے کم (عمر)، مگر زیادہ تر روایتیں کبار تابعین سے لی ہوں۔ جیسے زہری، قتادہ رحمہما اللہ

پانچواں طبقہ: صغار تابعین؛ جنہوں نے ایک یا دو صحابہ کو دیکھا ہو اور ان میں سے بعض کا (صحابہ سے) سماع بھی ثابت نہ ہو۔ جیسے اعمش رحمہ اللہ

چھٹا طبقہ: جو پانچویں طبقے کے ہم عصر ہوں مگر کسی صحابی سے ملاقات ثابت نہ ہو۔ جیسے ابن جریج رحمہ اللہ

ساتواں طبقہ: کبار تبع تابعین۔ جیسے امام مالک، سفیان ثوری رحمہما اللہ

اٹھواں طبقہ: درمیانی درجے کے تبع تابعین۔ جیسے ابن عینیہ، ابن علیہ رحمہما اللہ

نواں طبقہ: صغار تبع تابعین۔‌ جیسے یزید بن ہارون، امام شافعی، ابو داؤد الطیالسی ،عبدالرزاق رحمہم اللہ

دسواں طبقہ: کبار تبع اتباع تابعین؛ جنہوں نے زیادہ تر روایت تبع تابعین سے لی ہو اور کسی تابعی سے ملاقات نہ ہو۔ جیسے امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ

گیارہواں طبقہ: درمیانی درجے کے تبع اتباع تابعین۔ جیسے ذُہلی، امام بخاری رحمہما اللہ

بارہواں طبقہ: صغار تبع اتباع تابعین۔ جیسے امام ترمذی رحمہ اللہ۔ اور اسی زمرے میں صحاح ستہ کے باقی شیوخ (امام مسلم، امام نسائی، امام ابوداؤد اور امام ابن ماجہ رحمہم اللہ) بھی شامل ہیں۔

  1. وہ افراد جو جاہلیت اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے میں موجود رہے ہوں لیکن ان کی آپ سے ملاقات نہ ہوئی ہو (لیکن وہ آپ پر ایمان لے آئے ہوں۔) صحیح نقطہ نظر کے مطابق مخضرمین کو تابعین میں شمار کیا جاتا ہے۔ امام مسلم کی رائے کے مطابق مخضرمین کی تعداد بیس ہے لیکن درست یہ ہے کہ ان کی تعداد اس سے زیادہ ہے۔ ابو عثمان النھدی اور اسود بن یزید النخعی رحمہما اللہ کا شمار انہیں میں ہوتا ہے۔ (اویس قرنی اور حبشہ کے بادشاہ نجاشی رحمہما اللہ کا شمار بھی انہیں میں ہوتا ہے۔ ↩︎
Leave a Comment

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے